17ویں سالانہ عظیم الشا ن محفل ذکر ونعت بسلسلہ مشائخ کنونشن و کنونشن کمیونٹی ورکرز 2007


مورخہ:5جولائی بروز جمعرات    بمقام :  پہاڑی والی گرائونڈفیصل آباد    زیر اہتمام : بین المذاہب امن اتحاد پاکستان  خصوصی تعاون: تنظیم مشائخ عظام پاکستان
زیر صدارت:  صوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکارصاحب (چیئرمین بین المذاہب امن اتحاد پاکستان، امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان ،چیئرمین لاثانی ویلفیئرفائونڈیشن )
مہمان خصوصی : پیر طریقت سیدسعادت علی شاہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ چورہ شریف )
مشائخ عظام میں  پیر طریقت سید سعادت علی شاہ( سجادہ نشین مرکزی دربار عالیہ چورہ شریف اٹک مرکزی کوارڈینیٹر تنظیم مشائخ عظام پاکستان) ،پیر طریقت مخدوم سید نفیس الحسن بخاری( سجادہ نشین دربار عالیہ اوچ شریف بہاولپور)،پیر طریقت ملک صفدر علی اعوان( چئیرمین علماء مشائخ کونسل پاکستان اسلام آباد) ،پیر طریقت مخدوم سید محمدمراد شاہ( سجادہ نشین درگاہ عالیہ لعل شہباز قلندر سیون شریف سندھ)،پیر طریقت صاحبزادہ محمد ضیا الحق( سجادہ نشین دربار عالیہ پھنگالی شریف راولپنڈی)،پیر طریقت سید اکرام الرحمن گولڑوی (آستانہ عالیہ گولڑویہ مردان)،پیر طریقت صاحبزادہ امیر احمد چشتی (زیب دربار عالیہ بسال شریف اٹک)،پیر طریقت سید عابد حسین شاہ گیلانی (سجادہ نشین دربار عالیہ بدھال شریف آزاد کشمیر) ،پیر طریقت علامہ قاری محمد یوسف اعوان (صدر پاکستان پیپلز پارٹی علماء مشائخ ونگ صوبہ پنجاب )،پیر طریقت صاحبزادہ سید عابد علی شاہ( کوارڈینیٹر تنظیم مشائخ عظام پاکستان صوبہ سندھ)،پیر طریقت سید سیف الرحمن اخوندرویزہ( صوبائی کوارڈینیٹر تنظیم مشائخ عظام پاکستان صوبہ سرحد) ،پیر طریقت الحاج صوفی شاہ محمد کمال میاں جمیلی سلطانی (ہشتم جانشین خانقاہ شریف سیدنا غوث الاعظم سرکار  کراچی سندھ)،پیر طریقت صاحبزادہ مخدوم سید شیر علی بخاری( سجادہ نشین آستانہ عالیہ سہروردیہ جلالیہ دینہ شریف جہلم)،پیر طریقت پروفیسر سید علی رضا بخاری (سجادہ نشین درگاہ عالیہ بیہسان شریف آزاد کشمیر) ،پیر طریقت صاحبزادہ بشیر الدین قادری (گوجرخان سجادہ نشین دربارعالیہ قادریہ چشتیہ کراچی)،پیر طریقت سید شوکت علی ابوالعلائی (خلیفہ مجاز دربار عالیہ جہانگیریہ مرزا کھیل بنگلہ دیش )،پیر طریقت صاحبزادہ محمد طاہر طیبی (خلیفہ مجاز دربار عالیہ کرمانوالی سرکار اوکاڑہ)،پیر طریقت پروفیسر زمان بادشاہ نقیبی( خلیفہ مجاز دربار عالیہ نقیبیہ )،پیر طریقت مفتی صفدر علی قادری( سجادہ نشین دربار عالیہ محدث اعظم قصوری)،پیر طریقت صوفی محمد سلیم نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،پیر طریقت ڈاکٹر خضر محمود قادری (خلیفہ مجازدرگاہ عالیہ دیول شریف وادی دیول شریف )،اورپیر طریقت مخدوم سید ہارون شاہ( اسلام آباد)سے تشریف لائے۔
مذاہب عالم میں شری رام ناتھ مہاراج شری پنج مکھی (ہنومان مندر کراچی)،سردار گورمیت سنگھ( نائب صدر مسلم سکھ فیڈریشن پاکستان) ،کرنل ایل کے ٹریسلر( چئیرمین مسلم مسیحی اتحاد پاکستان) ،ڈاکٹر منوہر چاند سیکرٹری( جنرل منیورٹیز کوارڈینیشن کونسل پاکستان) ،گروسکھ دیو جی (صدر گروگورکھ ناتھ سیوا منڈل پاکستان )،ڈاکٹر ممپل سنگھ( صدر گرونانک جی مشن )،فادر آفتاب جیمز پال( ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فار انٹر ریلجس ڈائیلاگ اینڈ ایکیومیینزم وممبر ڈسٹرکٹ پیش کمیٹی فیصل آباد )،فادر بونی مینڈس (ڈائریکٹر ہیومن ڈویلپمنٹ سنڑ)،عمران صادق( ایونجلسٹ پریذیڈنٹ گوسپل لائٹ منسٹریز پاکستان )اور رمیش کمار جے پال (ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہرے راما فائونڈیشن ضلع رحیم یار خان)سے تشریف لائے۔
ہیومن رائٹس اوروکلاء ونگ کی طرف سے ڈاکٹر خالد آفتاب سلہری (چئیرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آبزرور)،رائوظفر اقبال( ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل کونسل فار ہیومن رائٹس) ،رانا طارق مجید( ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) ،خالد محمود بسرا (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) ،سید مشتاق احمد زیدی( ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) ،رانا ہارون الرشید( ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) ،صاحبزادہ ناصر حسین (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) ،غلام مصطفی اولکھ( ایڈووکیٹ) ،شعیب فرید طاہر( ایڈووکیٹ ہائی کورٹ) اور معین الدین تیموری (ایڈووکیٹ )اپنے اپنے وفود کیساتھ تشریف لائے۔
علماء کرام ،مفتیان صاحبان ،مشائخ کوارڈینیٹرزمیں علامہ حافظ محمد اکرم اویسی (جامع نظامیہ رحیم یار خان) ،علامہ پیر الطاف حسین نقشبندی (ضلعی کوارڈینیٹر ساہیوال) ،مولانا پروفیسر عبدالروف بھٹہ( ملتان شریف )،علامہ پیر امتیاز نذیر نقشبندی( ضلعی کوارڈینیٹر سرگودھا )،الحاج حافظ احمد یار سیالوی (مہتمم جامع قادریہ رضویہ فیصل آباد) ،مولانا محمد اشرف بٹ( فیصل آباد)،پیر سید احمد ندیم شاہ نقشبندی (ضلعی کوارڈینیٹر گوجرانوالہ) ،پیر طریقت لیاقت علی نقشبندی (ضلعی کوارڈینیٹر فیصل آباد) ،پیر طریقت محمد راشد نقشبندی (ضلعی کوارڈینیٹر لاہور) ،پیر طریقت احسان الحق نقشبندی (ضلعی کوارڈینیٹر ٹوبہ ٹیک سنگھ) ،پیر طریقت محمد امجد نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام کراچی سندھ) ،پیر عظیم سرور قادری سروری فاضلی( ملتان شریف) ،پیر طریقت محمد صاد ق چشتی (ضلعی کوارڈینیٹر ساہیوال )،پیر رانا محمد طاہر نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،صوفی عبدالمجید نقشبندی (ضلعی کوارڈینیٹر رحیم یار خان) ،پیر طریقت راجہ محمد علی سیفی (گوجرانوالہ) ،پیر محمد رمضان نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام ساہیوال) ،پیر عتیق الرحمن نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،پیر مختار احمد نقشبندی( مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،پیر ڈاکٹر محمد انور نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،سید نوشاد علی چشتی صابری قلندری (ملتا ن شریف )،پیر گلزار احمد قادر ی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان گوجرانوالہ)، پیر محمد افتخار نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان لاہور) ،پیر اعجاز احمد بابا جی سرکا ر(مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،پیر طریقت صوفی فرزند علی صابری( مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان لاہور) ،پیر طریقت مشتاق احمد نقشبندی (مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان فیصل آباد) ،پیر طریقت ڈاکٹر محمد الیاس قادری( مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان شمالی لاہور) ،پیر حافظ فریاد احمد نقشبندی( مرکزی رکن تنظیم مشائخ عظام پاکستان لاہو ر)،صاحبزادہ سجاد اکبر چشتی نظامی نیازی (ملتان شریف )اور پیر محمد رمضان شکوری (فیصل آباد )اپنے اپنے وفود کیساتھ تشریف لائے۔
دیگراعلیٰ شخصیات میں غازی کرنل سردار عبدالروف مگسی (سرپرست اعلیٰ نیو سینچری قرآن انسٹی ٹیوٹ پاکستان )،ڈاکٹر متین ملک( ڈائیریکٹر ایڈمن KEMUلاہور) ،کرنل محمد فاروق عمر( UNOسیفٹی فیلڈ آفیسر )،محترمہ سجیلہ عنصر( ایم پی اے پنجاب)،محترمہ نگہت سلیم (صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن و ایم پی اے پنجاب)،میاں امجد یسین( ڈسٹرکٹ نائب ناظم فیصل آباد) ،سجاد حیدر چیمہ( ٹائون ناظم اقبال ٹائون فیصل آباد) ،ڈاکٹر طاہر عباس (ایم بی بی ایس ،ایم ڈی ،ڈاکٹر شفقت حسین ایم بی بی ایس ،ایف سی پی ایس،ایم سی پی ایس کارڈیک سرجن )،ڈاکٹر ذوالفقار علی گل (ایم بی بی ایس ،پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ ،جنرل سیکرٹری لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن )،ڈاکٹر ارشد علی( ایم بی بی ایس ،ای این ٹی سپیشلسٹ) ،ڈاکٹر خرم علی( ایم بی بی ایس ،فیملی فزیشن )،ڈاکٹر نور محمد سگو( ایم بی بی ایس ،چیسٹ اسپیشلسٹ )،ڈاکٹر محمد اشفاق( الٹر اسائونڈ اسپیشلسٹ )،ڈاکٹر شازیہ ارشد (ایم بی بی ایس ،گائنا کالوجسٹ )،ڈاکٹر شمیلہ خرم علی( ایم بی بی ایس ،گائناکالوجسٹ )،ڈاکٹر ناصرہ خورشید( ایم بی بی ایس ،گائنا کالوجسٹ )،ڈاکٹر عائشہ شیراز( سائیکالوجسٹ )،پروفیسر سید خورشید عالم( چئیرمین اسکالرز گروپ آف کالجز لاہور) ،پروفیسر نذیر احمد (ایم اے (عربی ،فارسی )فاضل درس نظامی )،پروفیسر ذوالفقار علی (ایم اے (اردو،پنجابی )ایل ایل بی) ،پروفیسر منظور حسین (ایم اے انگلش )نے شرکت فرمائی۔
میڈیا کی نمایاںشخصیات میں راشد حجازی (رائل ٹی وی لاہور)،محمد یامین صدیقی (فیملی میگزین لاہور) ،محمد ہارون( گروپ ایڈیٹر القرآن آن لائن اسلام آباد بیوروچیف ریڈیو ڈنمارک)،محمد عمران یعقوب (جیو ٹی وی سینیئر سٹاف رپورٹر لاہور) ،سعید احمد( آن لائن لاہور) ،قاضی ندیم اقبال (روزنامہ اوصاف لاہور )،عبدالمجید ساجد (روزنامہ جنگ)،اعجاز حفیظ خان (کالم نگار /تجزیہ نگارلاہور) ،ناصر خان (کالم نگار/تجزیہ نگار لاہور) ،شمس الحق قذافی (روزنامہ ایکسپریس لاہور )،حافظ نعیم (روزنامہ دن لاہور) ،امداد حسین بھٹی (روزنامہ پاکستان لاہور )،فاروق خان بنگش (روزنامہ انصاف لاہور )،عابد اکرم( روزنامہ اسا س لاہور) ،عرفان عزیز( روزنامہ نوائے وقت لاہور )،شہباز چوہان( روزنامہ خبریں لاہور) ،ایم ٹی طائر( چیف ایڈیٹر لاثانی انقلاب فیصل آباد) ،افتخار اقبال (مینجنگ ایڈیٹر لاثانی انقلاب فیصل آباد) ،فیاض احمد (سٹاکسٹ لاثانی انقلاب پبلی کیشنز لاہور) ،شبیر احمد( ریجنل مینجر لاثانی انقلاب لاہور) ،سلمان حیدر( ریجنل مینجر ریجن راولپنڈی) ،عبدالطیف شاہد (ریجنل مینجر ریجن بہاولپور)،عبدالقیوم نقشبندی( ریجنل مینجر ریجن ملتا ن شریف )،قاری ظہیر احمد( ریجنل مینجر ریجن سرگودھا )،مظہرعباس (میڈیا سیکرٹری )نے بھی شرکت فرمائی۔
لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن رجسٹر ڈ انٹر نیشنل شعبہ خواتین ونگ کی طرف سے مسز ناظرہ مسعود( چئیر پرسن لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن) ،مسز مہوش مسعود (کوارڈینیٹر لاثانی نعت وکلام کونسل پاکستان) ،مسز عارفہ افتخار( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن شاہدرہ لاہور) ،مسز طاہر ہ اشرف( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن پاکپتن شریف )،مسز سلطانہ ناصر (صدر لاثانی نعت وکلام کونسل فیصل آباد) ،مسز رضیہ جہانگیر (صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن خانیوال) ،مسز فریدہ احسان( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ) ،مسز نورین ندیم( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن گوجرانوالہ) ،راشدہ اعجاز( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن شیخوپورہ )،نسرین افضل (صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن سیالکوٹ )،مسز طاہر ہ ندیم( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن لاہو ر)،جان بی بی (صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن کراچی )،فوزیہ اکبر( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن میاں چنوں) ،مسز روبینہ عامر( پرنسپل دی ٹیلنٹ ہنٹ سکول لاہور) ،عائشہ رحمن( کوارڈینیٹر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن خانیوال) ،ظل ہما( صدر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن پنجاب )،مسز سمیرا رفاقت (صد ر لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن خوشاب )،عابدہ معراج( امیر حلقہ خواتین ونگ فیصل آباد) ،مسز ثوبیہ فرحان( نائب امیر حلقہ خواتین ونگ فیصل آباد) ،منور سلطانہ (امیر حلقہ خواتین ونگ سرگودھا) ،صغریٰ سگو( امیر حلقہ خواتین ونگ ملتان شریف )،رضیہ آصف (صدر لاثانی نعت وکلام کونسل لاہور) ،حمیدہ کوثر (امیر حلقہ خواتین ونگ فورٹ عباس )،خالدہ جمیلہ (امیر حلقہ خواتین ونگ ساہیوال) ،انیلہ حفیظ( رکن لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن فیصل آباد) ،آسیہ (امیر حلقہ خواتین ونگ خوشاب) اپنے اپنے علاقے کی ہزاروں خواتین ورکرز کے ساتھ شرکت فرمائی۔
کنونشن کی خصوصیات:  
٭ جید خانقاہو ں اورسلسلہ عالیہ صابریہ، معصومیہ،ابوالعلائیہ جہانگریہ اور قادریہ مشائخ کی طرف سے قائد روحانی انقلاب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کی خدمت میں دستار اعتماد پیش کی گئیںاورتمام مشائخ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمیں قائد روحانی انقلاب کی قیادت پر مکمل بھروسہ ہے۔
٭اس موقع پر متفقہ رائے سے مسئلہ کشمیر کے پر امن اور کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل کے لیے حکومت پاکستان پر زور دیا گیا ۔ ہندو کمیونٹی کے نمائندگان شری رمیش جئے پال نے قرارداد پیش کی کہ حکومت ہندوستان نہتے کشمیریوں پر ظلم کا سلسلہ بند کرے اور اس مسئلہ کے پرامن حل کے لیے بات چیت کو مثبت انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
٭ گرو سکھ دیو ہندو راہنما نے سرکاری بین المذاہب امن کمیٹی سے مستعفی ہو کر پاکستان مسلم لیگ ورکرز اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا۔
٭مشائخ کنونشن کے موقع پر ملعون سلمان رشدی کو برطانیہ کی جانب سے سر کا خطاب دیے جانے کی مذمت کی گئی اور اس اقدام کو بین المذاہب امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔  
مقررین کے خطابات :  ۔مشائخ کنونشن کے مقررین غازی کرنل سردار عبدالروف مگسی ، مخدوم محمدہارون شاہ،پیر سید نفیس الحسن بخاری ،ملک صفدرعلی اعوان،پیر ڈاکٹر خضر محمو دقادری ،پیر علامہ قاری یوسف اعوان،پیر احسان الحق معصومی،صاحبزادہ فضل الرحمان ابوالعلائی، ڈاکٹر منوہر چاند ،گرو سکھ دیوجی ،رمیش جئے پال اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے نمائندگان ڈاکٹر خالد آفتاب سلہری نے ملک پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور استحکام پاکستان کے لیے مل جل کر منصوبہ بندی پر زور دیا۔ مشائخ عظام نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی پیران عظام کی واحد نمائندہ جماعت صرف تنظیم مشائخ عظام پاکستان ہی ہے اورنشاة ثانیہ ،اسلام کی سربلندی اوراستحکام پاکستان کے لیے خیبر تا کراچی ہر خانقاہ اور ہر آستانہ اب ایک ہو چکا ہے مشائخ نے کہا کہ تنظیم مشائخ عظام ،بین المذاہب امن اتحاد اور پاکستان مسلم لیگ ورکرز اتحاد میں شامل ہزاروں مشائخ لاکھوں کمیونٹی ورکرز اورپاکستان کا مقصدر بدل دیں گے ۔ اس اتحادکا اعتماد حاصل نہ کر سکناحکومت کی بد نصیبی کی علامت ہے،اگر حکومت تنظیم مشائخ عظام کا اعتماد لینے میں کامیاب ہو جاتی تو حکومت مضبوط ہوتی اور یہ بحران جو ملک کو کھوکھلا کر رہے ہیں جنم ہی نہ لیتے۔
صوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکارصاحب (امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان ) کا کنونشن سے خطاب : آپ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ روحانیت کو سمجھنے والے افرادامن پسند سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں اور اولیاء اللہ اپنی نظر معرفت سے لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت کو داخل کرتے ہیں۔ انہوں نے واضع کیا کہ اولیاء اللہ ہی درست سمت میں قومی اداروں کی فکری معاونت کر سکتے ہیں۔ فقراء کی حکومتی معاملات میں مشاورت نہ ہونے کی وجہ سے تہذیت و ثقافت کمزور ہو رہے ہیں حتکہ کہ افسوسناک حد تک معاشرتی اندازِ فکراور طرزِ زندگی دم توڑ رہی ہیںجو لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتے دنیا کے حالات مشائخ سے تقاضہ کرتے ہیں کہ عوام الناس کے شعور کو بیدارکیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مذمت کی جائے اور دہشت گردی کی وجوہات کو تلاش کیا جائے۔ مشائخ کے نزدیک بد امنی اور دہشت گردی کی اصل وجوہات زہریلہ لیٹریچر اور فرقہ واریت میں انتہا پسندی ہے جس کے لیے امن کے پیغام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقاف مشائخ کا محکمہ ہے اولیاء اللہ کے مزارات پر صرف اولیاء اللہ سے محبت رکھنے والے اوقاف ملازمین کی ہی ڈیوٹی لگائی جائے اس سے مزارات کے تقدس کی بحالی میں پیش رفت ہوگی ۔ انہوں نے واضع کیا کہ سود ی کاروبار کو حکومت اپنی اولین گوشش میں ختم کرنے کے لیے متحرک ہو ۔جناب صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے کہاکہ اسلام کی اصل روح کو سمجھنے والے مشائخ قومی سلامتی اور استحکام کے معا ملات میں دلچسپی لیں جس سے ملکی اور بین الاقوامی حالات میں یکسرمثبت تبدیلی پیدا ہو گی ۔حقیقی عوامی نمائندگان اولیاء اللہ ہی ہیں۔ انہوں نے مشائخ پر واضع کیا کہ انشااللہ بہت جلد ''استحکام پاکستان مشائخ کنونشن'' میں کیے گئے فیصلوں سے حکومت کو مطلع کر دیا جائے گا۔انہوں نے مشائخ پر زور دیا کہ وہ عملی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیںاور خدمت خلق کے حوالے سے عوام الناس کو متحرک کریں۔کنونشن کے موقع پر مشائخ نے اپنی قرار دادیں بھی پیش کیں جن کو باہمی مشاورت کے بعدامیر تنظیم مجلس شوری میں بحث کے لیے لائیں گے اور اس پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ کنوشن کے آخر میں پاکستان کے استحکام کے دعا کی گی۔
استحکام پاکستان مشائخ کنونشن کے انعقاد کے مقاصد
01ـتنظیم مشائخ کے پلیٹ فارم سے اسلام کی حقیقی روح کو بیدار کرنے کے سلسلے میں کی جانے والی کاوشوں کا جائزہ لینا ۔
02ـ مشائخ کے معاونین اور مشائخ سمیت روحانیت ا ور تصوف کی تعلیمات کو سمجھنے والے افراد کومہذب معاشرہ کی تشکیل کے لیے عملی طور پر تیار کرنا۔
 03ـاسلام کی اصل روح کو سمجھنے والے مشائخ کو قومی سلامتی اور استحکام کے معا ملات میں دلچسپی اور عملی حصہ لینے کی دعوت دینا ۔
04ـامن عامہ پر مبنی معتدل معاشرہ کے قیام کے لیے تصوف دوست اذہان کی تربیت کرنا۔
05ـدہشت گرد اور متشدد سوچ رکھنے والے عناصر کے ہتھکنڈوں سے سادہ لوح مشائخ کو آگاہی مہیا کرنا ۔
06 ـدنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر عوام الناس کے شعور کو بیدارکر کے قومی مفادات کے حصول کے لیے متحرک کرنا ۔
07ـاستحکام پاکستان کے لیے مشائخ سے تجاویز، مشورہ جات،موقف اور ان کی رائے حاصل کرنااور بعد ازاں اس موقف کو حکومت کے ایوانوں تک پہنچانا ۔
08ـمشائخ سے وابستہ افراد، عقیدت مندوں اور مریدین کی معاشرتی اورنظریاتی تربیت کرنااور انکو الیکشن میں آزادانہ حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے قابل بنانا۔
کنونشن کامشترکہ اعلامیہ :  
01۔مختلف سلاسل کے مشائخ اور پیر صاحبان سے تعلق رکھنے والے افراد آئندہ روحانی اور معتدل سوچ رکھنے اور اولیاء اللہ کا احترام کرنے والے افراد کو ہی ووٹ دیں۔
02ـفحاشی اورعریانی پھیلانے والے ٹی وی چینل اور کیبل آپریٹرز کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے ۔
03ـ حکومت قومی دولت لوٹنے والے عناصر کی لوٹ مار کی تفصیلات عوام کے سامنے لائے اور بلاامتیاز منصفانہ احتساب کی یقین دہانی کرائے۔
04ـمشائخ کے مزارات کا احترام اور تقدس کی بحالی کا یقین دلایا جائے اور محکمہ اوقاف میں اولیاء اللہ کا احترام کرنے والے افراد کو ہی تعینات کی کیا جائے۔
05ـمشائخ کے مزارات کا تقدس بحال کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے نیزمزارات پر اولیاء اللہ سے محبت رکھنے والے ملازمین کو تعینات کیا جائے۔
06ـدیگر مذاہب میں بڑھتے ہوئے احساس عدم تحفظ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور جامع غیر سیاسی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
07ـکرپٹ اور بنیاد پرست افراد کا راستہ روکا جائے گا بنیاد پرست اور تشدد پسند عناصر کی شرانگیزیوں کے اثرات کو زائل کرنے میں جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔
08ـحقیقی اعتدال پسند اور روشن خیال معاشرہ کے قیام کے لیے حکومتی اداروں ،کمیٹیوں اور بورڈز میں روحانی اورسائنسی ذہن رکھنے والے مشائخ کو نمائندگی دی جائے۔
09ـ حقیقی عوامی نمائندگان اولیاء اللہ ہیں امن عامہ اور مذاہب عالم کو حقیقی معنوں میں قریب لانے او رمذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے تصوف و روحانیت کی تعلیمات سے استفادہ کیا جائے۔
10ـ دم توڑتی معاشرتی اندازِ فکراور طرزِ زندگی میں اقدار کو میڈیا میں اسکی اصل تہذیب کے فکری انداز میں پیش کیا جائے۔
11ـ مشائخ کے حقیقی تشخص کو بحال کرنے کے لیے نا م نہاد جعلی مولوی پیروں کے خلاف قانون سازی کی جائے۔
12ـحکومتوں میں مشائخ کا لبادہ اوڑ کرنمائندگی کرنے والے چابلوس،خوشامدی اور سیاسی بنیاد پرست فتنہ علماء کا راستہ روکنے کے لیے معیار کی چھان بین کی جائے۔
13ـدہشتگردی اور بے گناہ انسانوں کا اسلام کے نام پر خون ریزی بند کرنے کے لیے زہریلے لیٹریچر اور فرقہ ورانہ مواد پر فورا پابندی عائد کی جائے۔
14۔درپیش مسائل کے حل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔
14۔پاکستان میں حقیقی پیران عظام کی واحد نمائندہ جماعت صرف تنظیم مشائخ عظام پاکستان ہی ہے۔
14۔ حکومت کمزور ہو چکی ہے اور اگر اب بھی فیصلے باہمی اتفاق رائے سے نہ کیے گئے توحکومت مزید بحرانوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
14۔اگرجنرل پرویز مشرف تنظیم مشائخ عظام کا اعتمادحاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو حکومت مضبوط ہوتی اور یہ بحران جنم ہی نہ لیتے۔
14۔ اگر آئندہ الیکشن منصفانہ اور بروقت ہوئے تو مسلم لیگ ورکرز اتحاد اپنی واضع اکثریت سے نئے سیاسی باب رقم کریگی۔
14۔ملک کو درپیش مسائل کے حل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔
14۔ پاکستان میں حقیقی پیران عظام کی واحد نمائندہ جماعت صرف تنظیم مشائخ عظام پاکستان ہی ہے۔
14۔ حکومت کمزور ہو چکی ہے اور اگر اب بھی فیصلے باہمی اتفاق رائے سے نہ کیے گئے توحکومت مزید بحرانوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
14۔ استحکام پاکستان کے لیے مشائخ تنظیم مشائخ عظام کے پلیٹ فارم پر متحد ہو چکے ہیں۔
مشائخ عظام کی طرف سے پیش کی گئی قراردادیں:  
٭۔غربت، ناانصانی، بے روزگاری، مہنگائی، فحاشی میں تیزی پر افسوس کا اظہار حکومت ،حکومتی اداروں پر مشائخ کی تنقید
٭۔آئندہ وہی حکومت قائم رہے گی جو اولیاء اللہ اور فقراء سے عقیدت رکھے گی!
٭۔آئندہ الیکشن میں اولیاء اللہ ا ور روحانیت سے تعلق رکھنے والے افراد صرف اولیاء اللہ سے محبت رکھنے والے ا فراد کو ووٹ دیں۔
٭۔ حکومت پاکستان کی نظریاتی وفکری استحکام، پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے مشائخ حق سے استفادہ کرے
٭۔مشائخ کی جانب سے جنوبی ایشیا میں پاک بھارت تعلقات، مسئلہ افغانستان و کشمیر اور کور ایشوز پر حکومت کو عملی معاونت کی پیشکش
٭۔ تنظیم مشائخ عظام اجتہاد اولیاء کا عملی نمونہ ہے پنجاب بھر سے مشائخ عظام کی کنونشن میں شرکت  
٭۔ کنونشن میںصدیقیہ ، نقشبندیہ، صابریہ، معصومیہ، ابوالعلائیہ، سہروردیہ، قادریہ ، چشتیہ اورموہڑیہ کے سلاسل کی آمد نوید انقلاب ہے  
نوٹ : نماز فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد محفل سماع کی وجدانی ساعتوں کے بعدمشائخ کنونشن کے آخر میں پاکستان کے استحکام اور ترقی کے خصوصی دعا کی گئی۔   

سالانہ کنونشن